حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے ممتاز عالمِ دین، ملی و سماجی رہنما آغا سید محمد عباس رضوی مرحوم کی دینی، علمی، سماجی، سیاسی اور ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے 6 ستمبر 2026ء بروز اتوار مرکزی جامع مسجد سکردو میں مجلسِ تکریم و تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا، جس میں بلتستان کے تمام اضلاع سمیت گلگت و نگر سے علمائے کرام، مسئولین اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔


پروگرام کی نظامت سکردو ڈویژن کے سیکریٹری جنرل محمد موسیٰ نے انجام دی اور تلاوتِ کلامِ پاک سے ریفرنس کا آغاز کیا۔
ابتدائیہ کلمات میں محمد موسیٰ نے کہا کہ آغا سید عباس رضوی مرحوم کی دینی و ملی جدوجہد تقریباً نصف صدی پر محیط تھی۔ آپ نجف اشرف سے فارغ التحصیل تھے اور وطن واپسی کے بعد اپنی زندگی آبائی علاقے کی دینی، سماجی، معاشرتی، سیاسی اور ملی خدمت کے لیے وقف کردی۔ وہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے باوفا ساتھی تھے اور کسی دباؤ یا لالچ کے بغیر ہمیشہ قیادت کے ساتھ ثابت قدم رہے۔
انہوں نے کہا کہ قائد ملت بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر ریفرنس میں شریک نہ ہوسکے، تاہم ان کی نمائندگی کرتے ہوئے مرکزی سیکریٹری جنرل اسلامی تحریک پاکستان علامہ ڈاکٹر شیخ شبیر حسن میثمی نے اپنے رفقاء کے ہمراہ شرکت کی۔

اس موقع پر علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے قائدِ ملت جعفریہ پاکستان کی جانب سے علماء و مومنین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مختلف اضلاع اور دور دراز علاقوں سے عوام و علماء کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم و ملت کی خدمت کرنے والوں کو آسانی سے فراموش نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے آغا عباس رضوی مرحوم کی سادگی، شرافت، واضح بیانی، استقامت اور قیادت سے وفاداری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی آئندہ نسلوں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہے۔

تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ و الجماعت مرکزی جامع مسجد سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے مرحوم کے ساتھ نجف اشرف میں طویل علمی رفاقت کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ انتہائی صادق القول، حلیم الطبع اور کم گو عالمِ دین تھے۔ علم، حلم اور کم گوئی کی صفات ان کی شخصیت میں نمایاں تھیں۔

نائب امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے مجلسِ ترحیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آغا سید عباس رضوی مرحوم علم کے ساتھ عمل، تقویٰ، اخلاص، حسنِ اخلاق اور جفاکشی کا پیکر تھے۔ انہوں نے تقریباً نصف صدی تک محراب و منبر، اجتماعی خدمت اور سیاسی میدان میں ذمہ داریاں نبھائیں اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم نے سیاست کو ذاتی خواہش کے بجائے قیادت کی ہدایت اور عوامی ضرورت کے تحت قبول کیا اور اپنے کردار سے اس ذمہ داری کا حق ادا کیا۔

تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر آغا سید محمد عباس رضوی مرحوم، شہدائے ملت جعفریہ اور شہدائے 6 ستمبر کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔









آپ کا تبصرہ